pep.zone
Welcome, guest. You are not logged in.
Log in or join for free!
 
Stay logged in
Forgot login details?

Login
Stay logged in

For free!
Get started!

Guestbook


sheitan ka luqma - Newest pictures
a--------urdu.duniya.in.pep.zone

✽ شیطان کا لقمہ ✽

کردار سازی


مصنفہ:-ناہید جعفر


گزشتہ رات گھر میں دعوت تھی۔ اب صبح کے وقت پورا گھر میدانِ کار زار کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ جگہ جگہ خالی پلٹیں، گلاس، ٹشو پیپر اور مونگ پھلی کے چھلکے پھیلے ہوئے تھے۔
سارہ اپنی ماسی سکینہ کے ساتھ مل کر برتنوں سے نبردآزمائی میں مصروف تھی۔ سکینہ نے میز پر سے پھلوں کے چھلکے اٹھا کر پھینکے‘ تو کیلے کا ایک چھلکا سارہ کے پائوں پہ آ گرا۔ اس نے اٹھا کر دیکھا، تو صحیح سالم کیلا تھا۔
سارہ نے حیران ہو کر پوچھا ’’تو نے ثابت کیلا کیوں پھینک دیا؟‘‘ ’’باجی گلا ہوا تھا…‘‘ اُس نے بے پروائی سے جواب دیا گیا۔ سارہ نے دیکھا، کیلا ایک طرف سے ذرا سا نرم ہو رہا تھا۔ اس نے اُسی وقت چھیل کر کھا لیا اور آہستہ سے بڑبڑائی ’’۸۰روپے درجن کیلوں کے ساتھ یہ سلوک۔ اُف توبہ…‘‘

آدھے برتن دھونے کے بعد سکینہ نے بریانی کے دیگچے کو للچائی نظروں سے دیکھتے ہوئے ’’بھوک‘‘ کا نعرہ لگا دیا۔ سارہ نے اسے بریانی، مرغ کڑاہی، روغنی نان اور پھل ٹرے میں سجا کر دیے۔ سب چیزوں سے اچھی طرح انصاف کرنے کے بعد جب وہ ٹرے سنک میں رکھنے آئی‘ تو یہ دیکھ کر سارہ کا دماغ بری طرح گھوم گیا کہ بریانی کی آدھی پلیٹ سوندھ کر چھوڑ دی گئی تھی۔
سالن بھی کافی مقدار میں بچا ہوا تھا اور اس میں نان کے ٹکڑے تیر رہے تھے۔ پلیٹ میں لتھڑی سویٹ ڈش بھی بے قدری کی داستان سنا رہی تھی۔

سارہ بے اختیار چیخ پڑی! ’’اتنا کھانا پلیٹوں میں کیوں بچایا؟ تجھے ہزار مرتبہ کہہ چکی ہوں کہ جتنا کھانا چاہیے‘ الگ برتن میں نکال لیا کر۔ میرے گھر کا رزق کوڑے میں نہیں جائے گا۔ میرے میاں کی حق حلال کی کمائی اتنی فالتو نہیں کہ اٹھا کر کوڑے میں ڈال دوں۔‘‘

اس مرتبہ بھی ماسی شان بے نیازی سے گویا ہوئی ’’باجی! لوگ تو شاپر بھر بھر کر سالن اور گوندھا ہوا آٹا کوڑے کے ڈھیر پر پھینکتے ہیں۔ اگر میں نے تھوڑا سا کھانا پھینک دیا‘ تو کون سی قیامت آ گئی۔‘‘
ماسی کے خیالات سن کر سارہ نے اپنا سر پکڑ لیااور دکھ سے سوچا، ہمارے آقائے دو جہاںﷺ نے تمام عمر رزق کی کیسی مثالی قدر کی کہ دستر خوان پر گرے ٹکڑے تک چن چن کر کھائے اور انگلیوں پر لگے ہوئے ذرات تک کو چاٹ لیا۔ آج آپﷺ کی امت کے خوشحال لوگوں کا تو کہنا ہی کیا،مفلس اور بدحال لوگ بھی رزق کو پیروں تلے روند رہے ہیں۔

’’کیسے ...


This page:




Help/FAQ | Terms | Imprint
Home People Pictures Videos Sites Blogs Chat
Top
.